آمراوتی 16/ستمبر (ایس او نیوز ) آندھراپردیش میں حالیہ سیلاب کے بعد لبریز دریائے گوداوری میں پیش آئے ایک بدترین کشتی حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 46 تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب مسافروں کو ایک سیاحتی مقام پر لے جانے والی بوٹ بیچ دریا میں ہی اُلٹ گئی۔
میڈیا سے ملنے والی خبروں کے مطابق بوٹ پر9/ارکان عملہ سمیت 60 سے زائد افراد سوار تھے، جن میں سے 18 کو مقامی لوگ بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ پیر کی صبح تک ملنے والی اطلاع کے مطابق 12 لوگوں کی نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں اور دیگر لوگوں کی تلاش جاری ہے۔
خیال رہے کہ مشرقی گوداوری کے کچولورو میں یہ کشتی جو ایک خانگی آپریٹر کی طرف سے چلائی جارہی تھی اتوار کو خوبصورت قدرتی مناظر سے مزین پر فضاء سیاحتی علاقہ پاپی کنڈلو کی سمت روانہ ہورہی تھی جب بیچ دریا میں بڑے چٹان سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی ۔ گمشدہ افراد کی تلاش کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اپنے 140 اہلکاروں کے ساتھ سرگرم مہم میں مصروف ہیں۔ راجہ مہیندرا ورم سے ایک خصوصی ہیلی کاپٹر کو بھی متحرک کردیا گیا ہے ۔ خبر ہے کہ ’رائل وسشٹا ‘ نامی اس کشتی کے دو ڈرائیورس بھی حادثہ میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ دریا میں سیلاب کے بعد سیاحوں کو لانے لے جانے کے لئے کشتیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی، اس کے باوجود یہ کشتی سیاحوں کو لے جارہی تھی، اس تعلق سے پتہ نہیں چل پایا ہے کہ آیا اس کشتی کو خصوصی اجازت حاصل تھا یا نہیں ۔ رپورٹوں کے مطابق دریائے گوداوری میں گزشتہ کئی دنوں سے پانی کی سطح خطرہ کے نشان سے اوپر تھا اور اتوار کو پیش آئے اس حادثہ کے وقت 5.13 لاکھ کیوزکس سیلابی پانی بھی سمندر میں بہہ رہا تھا جس کے نتیجے میں پانی میں زبردست بہاو تھا۔
اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کشتی سے بچ کر واپس آنے والے ایک سیاح جانکی راما راو نے بتایا کہ جب ہم کنچلورو پہنچے تو ہمیں دوپہر کے کھانے کے لئے دو مالہ والی بوٹ کے اوپری حصے میں آنے کے لئے کہا گیا ، جب ہم اوپر پہنچے تو اچانک بوٹ ہچکولے کھانے لگی، اس موقع پر قریب تیس لوگ اوپر پہلے مالے پر پہنچ چکے تھے، جب بوٹ کافی تیزی کے ساتھ ہچکولے کھانے لگی تو اس دوران کئی لوگ بوٹ سے باہر سمندر میں جاگرے۔
رپورٹوں کے مطابق سمندر میں زبردست بھونچال آنے کی وجہ سے تلاشی مہم میں دشواریاں پیش آرہی ہیں، البتہ حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام لوگوں کی نعشوں کو جب تک برآمد نہیں کرلیا جاتا، تلاشی مہم جاری رہے گی۔
ایک ٹی وی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق بوٹ پر سوار سبھی لوگ لائف جیکٹ پہنے ہوئے تھے جبکہ جن لوگوں کی نعشیں اب تک برآمد کی گئی ہیں، اُن سبھی کی نعشیں بھی لائف جیکٹ کے ساتھ ہی ملی ہیں، رپورٹ کے مطابق سمندر میں بہاو اتنا تیز تھا کہ لوگ کافی تیزی کے ساتھ بہتے چلے گئے۔
وزیراعظم نریندر مودی ، کانگریس کے صدر راہول گاندھی، آندھراپردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ جگن موہن ریڈی نے اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق ریاست آندھرا پردیش میں ہر سال بوٹ اُلٹنے کے حادثات میں اندازاً 30 لوگ ہلاک ہوتے ہیں، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔